Punjab Assembly Aur Sharamnaak Waqaya
July 1st by Aftab Iqbal.جس طرح کرکٹ کے اکثر ٹورنامنٹس میں زمبابوے‘ کینیڈا‘ کینیا اور ہالینڈ وغیرہ کی نہایت ’’ہماتڑ‘‘ قسم کی ٹیموں کو بھی شامل کیا جاتا ہے تاکہ ہر تگڑی ٹیم ان پر اپنا ’’ہاتھ‘‘ وغیرہ سیدھا کرنے کیلئے حسبِ توفیق انہیں مارکُٹ لے‘ بالکل اسی طرح کا کام پنجاب اسمبلی میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی والے بیچاری ق لیگی خواتین ممبران سے لے رہے ہیں۔ آج سے تقریباً ہفتہ پہلے راولپنڈی سے پیپلزپارٹی کی ممبر نرگس فیض اور لاہور سے عظمیٰ بخاری نے ایک معصوم سی ق لیگی خاتون جس کا اسم گرامی غالباً ثمینہ خاور حیات ہے‘ کے خوب لتے لئے۔ مذکورہ خاتون کی بابت ہماری ذاتی اطلاع یہ ہے کہ وہ پیپلزپارٹی میں شمولیت کا قصد کر چکی تھیں اور اگر وہ واقعہ پیش نہ آتا تو شاید اب تک یہ اطلاع آ بھی چکی ہوتی۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی مذکورہ خواتین نے یہ شور شرابا صرف اور صرف وزارتیں حاصل کرنے کیلئے کیا تھا کیونکہ مبینہ طور پر پارٹی قائد قبلہ آصف علی زرداری اپنے اندر پائی جانیوالی جنگ جویانہ صلاحیتوں کے سبب اس قسم کی پارلیمانی ماردھاڑ کو بہت پسند کرتے ہیں۔ خیر‘ آج اس واقعے کو آٹھ دس دن ہو چکے ہیں مگر زرداری صاحب نے تاحال نرگس فیض اور عظمیٰ بخاری پر نظرِکرم نہیں کی جوکہ سراسر زیادتی ہے۔
ق لیگی خواتین کو تختۂ مشق بنانے کی تازہ ترین واردات کل رونما ہوئی جب وزیر جیلخانہ جات چودھری عبدالغفور نے ایک ق لیگی خاتون کو جن کے نام کا آخری حصہ ہمیں اس لئے یاد رہ گیا کہ اس میں گردیزی آتا ہے‘ مبینہ طور پر بجٹ دستاویز مارنے کی بھرپور کوشش کی‘ ان سے ایک پوسٹر کیلئے چھیناجھپٹی کی اور انہیں اپنے ’’مخصوص‘‘ سریلے سے انداز میں سخت برا بھلا بھی کہا۔ محترمہ گردیزی صاحبہ نے ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے یہ تو کہا ہے کہ وزیر نے حد سے زیادہ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا مگر اس بات کی تردید کی کہ موصوف نے ان کے ساتھ چھیناجھپٹی کی اور انہیں ہاتھ لگایا۔ خاتون نے یہ بھی کہا کہ اگر چودھری غفور نے انہیں چھوا ہوتا‘ تو اب تک زندہ نہ ہوتے۔ چودھری عبدالغفور کا مؤقف بھی ہم نے ٹی وی پر سنا جوکہ اتنا ہی مخولیہ تھا جتنے کہ چودھری صاحب خود نظر آتے ہیں۔ چودھری صاحب کی گردن میں ’’پلے‘‘ یعنی ڈھیلاپن اس قدر زیادہ ہے کہ ہر چوتھے سیکنڈ کے بعد یہ ازخود ایک آدھ مرتبہ مٹکتی اور لہلہاتی ہے جس سے دیکھنے والے پر گمان گزرتا ہے کہ شاید حضرت صاحب ’’تین تال اور سولہ ماترے‘‘ والے کلیئے کے تحت گفتگو فرما رہے ہیں۔ آپ کا کہنا تھا کہ لیڈر چونکہ باپ کی طرح ہوتا ہے‘ اس لئے کوئی بیٹا یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے باپ بارے آپ نازیبا قسم کا پوسٹر اٹھا کر اسمبلی کے اندر لے آئیں۔ ہمارے ذاتی خیال میں چودھری غفور کی یہ منطق اس قدر احمقانہ ہے کہ اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے ‘ کم ہے۔ اگر موصوف کی یہ بیوقوفانہ بات مان لی جائے تو پھر اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ موقع پر موجود اسی لیڈر کے پونے دو سو دیگر بیٹے کیا اس قدر ناخلف تھے کہ انہوں نے چودھری غفور کا ساتھ دینے کی بجائے نہ صرف اسے منع کیا بلکہ اس کی مذمت بھی کی ہے۔
شہباز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں‘ اہم نواز لیگی لیڈروں اور حتیٰ کہ ان کے ذاتی سٹاف کے افسروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نواز لیگ کی جمالیاتی حِس بڑی تیز بلکہ زبردست ہے‘ جس طرح پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی‘ رضا ربانی‘ افضل سندھو اور سردار آصف احمد علی کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس جماعت میں ابھی بھی پانچ سات اعلیٰ پائے کے مدبرین موجود ہیں‘ اسی طرح احسن اقبال‘ خواجہ آصف‘ جاوید ہاشمی‘ چودھری نثار‘ سعدرفیق‘ اقبال ظفر جھگڑا اور سب سے بڑھ کر میاں شہباز شریف کے ساتھ بات کرکے پوری نواز لیگ کا حال آپ پر آشکار ہو جاتا ہے۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چودھری عبدالغفور جیسے عناصر کو بطور وزیر دیکھ کر اس جماعت کا مستقبل بھی کافی حد تک واضح ہونے لگتا ہے۔ پچھلے دنوں لاہور ائرپورٹ پر جو کچھ ہوا‘ اس کے بعد تو قطعاً گنجائش نہیں تھی کہ موصوف کو معافی دی جاتی مگر سنا ہے کہ کھوسہ صاحب کی سفارش اور نواز شریف کا روایتی صرفِ نظر ان کے کام آیا اور انہیں وزارت کے عہدے پر بارِ دیگر بحال کر دیا گیا۔ ہم نے اسی روز سے نواز لیگ بارے بھی فکرمند ہونا شروع کر دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جس شخص کی ذہنی نشوونما اور سیاسی تربیت 80ء کی دہائی سے آگے جا ہی نہیں سکی وہ دورِ حاضر کے سیاسی تقاضے بھلا کیونکر پورے کر سکتا ہے۔ جو شخص حزبِ اختلاف کی ایک خاتون کو اپنا احتجاج رجسٹر کروانے کا حق نہیں دیتا اور مرنے مارنے پر تُل جاتا ہے اور اس پر مستزاد وہ ’’ولایوڑ‘‘ قسم کی منطق کہ ’’میرا قائد میرا باپ ہے اور میں اس کے خلاف کچھ نہیں سن سکتا‘‘! سبحان اللہ۔ تو پھر تم گھر بیٹھو‘ یہاں اسمبلی میں تمہیں کس گھامڑ نے بھیج دیا ہے۔ حزبِ اختلاف تو ہمیشہ یہی کچھ کرتی ہے بھائی‘ وہ پوسٹر تو کچھ بھی نہیں تھا۔ حزبِ اختلاف تو اس سے بھی چار ہاتھ آگے چلی جاتی ہے مگر جو کچھ تم نے کیا وہ تو سراسر نادان دوستی تھی جس نے نواز لیگ کے گراف کو مزید نیچے سرکا دیا ہے۔ تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ تمہاری اس بے تُکی ’’وفاداری‘‘ نے تمہاری جماعت کی کتنی سبکی کروا دی ہے۔
یہ تو خیر اب لوگ دیکھیں گے ہی کہ شہباز شریف اس پر کیا ردِعمل دکھاتے ہیں مگر یہ بھی دیکھنا ازحد ضروری ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی بھی محض نام کے ہی مسٹر سپیکر ہیں یا وہ بھی اپنے ’’زیرِ مونچھ‘‘ ہونے والی اس غیرجمہوری اور غیرپارلیمانی حرکت پر کس حد تک برہمی دکھاتے ہیں۔ ویسے چودھری غفور کو آئندہ اس قماش کی حرکت اگر کرنا ہی ہو تو انہیں اس کیلئے کسی مرد ممبر کا انتخاب کرنا چاہئے‘ عورت کا نہیں۔

This thing has 2 Comments
Its so hard to read this column. What kind of font is this ?
We will try to get standard font and will let you know. Sorry for inconvenience.